اہلِ حدیث کا عنوان دواصطلاحوں میں مختلف معانی کا حامل ہے:
(۱)اہلحدیث باصطلاح قدیم
(۲)اہلحدیث باصطلاحِ جدید۔
اصطلاحِ قدیم میں اس سے مراد وہ لوچگ تھے جوحدیث روایت کرنے، پڑھانے، اس کے راویوں کی جانچ پڑتال کرنے اور اس کی شرح میں مشتغل رہتے تھے، انہیں محدثین بھی کہا جاتا تھا اور وہ واقعی اس فن کے اہل سمجھے جاتے تھے؛ سواہلِ علم کی اصطلاح قدیم میں اہلِ حدیث سے مراد حدیث کے اہل لوگ تھے، اہلِ ادب، اہلِ حدیث، اہلِ تفسیر سب اسی طرح کی اصطلاحیں ہیںـــــ حافظ محمد بن ابراہیم الوزیر رح (٧٧٥775-840٨٤٠ ہجری)لکھتے ہیں:
"من المعلوم أنّ أهل الحديث اسم لمن عني به, وانقطع في طلبه...... فهؤلاء هم من أهل الحديث من أي مذهب كانوا"۔
(الروض الباسم لابن الوزیر:۱/۱۲۲)
ترجمہ:یہ بات معلوم ہے کہ اہلِ حدیث اس طبقے کا نام ہے جو اس فن کے درپے ہو اس کی طلب میں منہمک رہے...... ایسے سب لوگ اہلِ حدیث ہیں؛ خواہ وہ کسی مسلک سے تعلق رکھتے ہیں۔
اس طبقہ علمی کے لحاظ سے اہلحدیث [محدثین] کسی ایک فرقہ مذہبی سے متعلق نہیں ، جیسے اہل قرآن بمعنی مفسرین کسی ایک فرقہ سے متعلق نہیں. زمحشری ، بیضاوی مفسر ہیں مگر(مذهباً) معتزلی ہیی - قمی مفسر ہے مگر(مذهباً) شیعہ ہے - اس طرح ابوبکر دارمی اہلحدیث اور محدث ہے مگر(مذهباً) شیعہ ہے - [تذکرہ الحفاظ ص884] ابن جریج اہلحدیث اور محدث ہے مگر نوے عورتوں سے متعہ کرنے والا ہے - [تذکرہ الحفاظ ص149] ابو احمد الزبیری اہلحدیث ہے مگر (مذهباً) جلا بھنا شیعہ ہے - [تذکرہ الحفاظ ج1 ص322] محمد بن فضیل بن غزوان المحدث اہلحدیث الحافظ تھے مگر (مذهباً) جلے بھنے شیعہ تھے - [تذکرہ الحفاظ ج1 ص290] محدث حاکم ابو عبدالله اہلحدیث بھی محدث ہیں مگر تذکرہ الحفاظ میں رافضی خبیث لکھا ہے - اسماعیل بن علی السمان اہلحدیث کے امام تھے ، مگر(مذهباً) متعزلی تھے - [تذکرہ الحفاظ ج3 ص300] بہت سے محدثین حنفی تھے جن کے حالات میں محدثین نے [الجواہر المضیتہ فی تراجم الحنفیہ اور الفوائد البہیہ فی تراجم الحنفیہ اور مفتاح سعادۃ الدارین] وغیرہ ، مستقل اور ضحیم کتابیں لکھی ہیں - بہت سے محدثین شافعی ، مالکی ، حنبلی تھے جن کے حالات میں طبقات شافعیہ ، طبقات مالکیہ ، طبقات جنابلہ کتابیں لکھی گئی ہیں - اس سے معلوم ہوا کہ اہلحدیث(مذهباً) معتزلی بھی ہوتے ہیں - شیعہ بھی ، خارجی بھی ، قدری بھی ، حنفی ، شافعی ، مالکی ، حنبلی بھی ، کیونکہ یہ علمی طبقہ ہے نہ کہ کسی فرقہ مذہبی کا نام ان حنفی ، شافعی ، محدثین نے اپنے طبقات کی کتابیں لکھی ہیں - شیعہ معتزلہ نے بھی ایسی کتابیی جن میں ان کے محدثین کا ذکر ہے لکھی ہیں -
اس سے واضح ہوتا ہے کہ محدثین خواہ وہ کسی بھی فقہی مسلک سے تعلق رکھتے ہوں اس فن کے اعتبار سے اہلحدیث کہلاتے تھے،
نوٹ : مذھب کی لغوی معنی "شاہراہ" ہے، یعنی جس پر چلا جاۓ. یہ عربی لفظ "ذ - ھ - ب" سے مشتق ہے، جس کی معنی جانا (چلنا)، گزرنا یا مرنا ہے، جیسے ...الأمر: ختم ہونا، ...على الشئ: بھول جانا، ....به: لے جانا، ساتھ جانا، جگہ سے ہٹانا اور اسی سے ہے "ذهبت به الخيلاء" اس کو تکبر لے گیا یعنی اس کو اس کے مرتبہ سے گرادیا.
في المسئلة إلى كذا : (کسی مسئلہ میں) فلاں راۓ اختیار کرنا [المنجد : صفحہ # ٢٦٦]
اسی لئے ائمہ اسلام کے اصطلاح میں لفظ مذھب "راۓ یا مسلک" کے معنی میں استعمال ہوتا ہے.
جیسے علم حدیث کے امام "مسلم رح" ، اپنی کتاب صحیح مسلم کے مقدمہ میں فرماتے ہیں:
شرحنا من مذهب الحديث وأهله بعض ما يتوجه به من أراد سبيل القوم
[صحیح مسلم:جلد اول: مقدمہ مسلم ، حدیث نمبر 1 : ثقات سے روایت کرنے کے وجوب اور جھوٹے لوگوں کی روایات کے ترک میں]
ترجمہ : ہم نے حدیث اور اس کے اہل (یعنی محدثین) کے مذھب (طریقہ و راۓ) کی تشریح کردی ہے تاکہ اس کی جانب وہ شخص (جو اصولِ روایتِ حدیث سے ناواقف ہے) متوجہ ہو سکے جو اس قوم (محدثین) کی سبیل (راہ و طریقہ) اختیار کرنا چاہتا ہے.
مزید تفصیل کے لیے دیکھیے : دین و مذھب میں فرق
مولانا محمدابراہیم صاحب میر بھی لکھتے ہیں:
"بعض جگہ توان کا ذکرلفظِ اہل حدیث سے ہوا ہے اور بعض جگہ اصحاب حدیث سے، بعض جگہ اہل اثر کے نام سے اور بعض جگہ محدثین کے نام سے، مرجع ہرلقب کا یہی ہے"۔
(تاریخ اہلحدیث:۱۲۸)
اصطلاح جدید میں اہلِ حدیث سے مراد اہلِ علم کا کوئی طبقہ نہیں؛ بلکہ ایک خاص فقہی مسلک ہے، جو ائمہ اربعہ میں سے کسی کی پیروی کا قائل نہیں، اہلِ حدیث کی یہ اصطلاح بہت بعد کی ہے، قرونِ وسطیٰ میں یہ کسی فقہی مسلک کا نام نہ تھا، اصطلاحِ جدید میں اس سے مراد جماعتِ اہلحدیث ہے، اس میں پڑھے ہوئے اور اَن پڑھ دونوں طرح کے لوگ شامل ہیں، آج کے عنوان میں "اہل حدیث" کا لفظ اسی جدید اصطلاح میں ہے اور اس سے مراد جماعتِ اہلحدیث ہے، انہیں غیرمقلدین بھی کہتے ہیں، یہ حضرات براہِ راست حدیث سے انتساب کے مدعی ہیں؛ سویہاں اہلحدیث سے مراد حدیث کے ماننے والے نہیں؛ جیسا کہ اس کی لفظی دلالت ہے؛ کیونکہ حدیث کوتوسب مسلمان اپنے لیئے حجت مانتے ہیں اور سب فرقے اس سے تمسک کے مدعی ہیں، جوحدیث کونہیں مانتا وہ تومسلمان ہی نہیں ہے؛ سویہ کیسے ہوسکتا ہے کہ مسلمانوں کا صرف ایک فرقہ اہلحدیث بمعنی حدیث کوماننے والا ہو اور باقی مسلمانوں کے بارے میں یہ سمجھاجائے کہ وہ حدیث کونہیں مانتے اور ہیں وہ بھی مسلمان "اِنَّاللہِ وَاِنَّااِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ" یہ خود ایک بڑی غلطی ہوگی ؎
ع بسوخت عقل زحیرت کہ ایں چہ بوالعجبیست
حجیت حدیث کی بحث میں ہم کہہ آئے ہیں کہ جوشخص حدیث ماننے کا قائل نہ ہو، وہ مسلمان نہیں ہے، پس یہ تسلیم کرنے سے چارہ نہیں کہ یہاں "حدیث" "سے مراد "حدیث کے ماننے والے" نہیں لیئے جاسکتے؛ بلکہ وہ ایک خاص فرقہ ہے جوفقہی مسائل میں کسی امام کی پیروی کا قائل نہیں اور فروعات میں براہِ راست حدیث سے انتساب کا مدعی ہے، عوامی سطح پر اگراہلحدیث کے معنی "حدیث کے ماننے والے" کیئے جائیں تو اس سے منکرین حدیث کوبہت قوت ملے گی اور وہ برملا کہیں گے کہ مسلمانوں کا صرف ایک فرقہ جوبرصغیر پاک وہند میں پانچ فیصد سے زیادہ نہیں، حدیث ماننے کا قائل ہے، باقی سب مسلمان خواہ وہ کسی بھی مسلک سے تعلق رکھتے ہوں ان کے ہاں حدیث حجت نہیں اور اُسے ماننا ضروری نہیں، حدیث اگرسب مسلمانوں کے ہاں حجت سمجھی جاتی اور اس کا ماننا سب مسلمانوں کے نزدیک ضروری ہوتا توایک فرقے کا نام اہلحدیث کیوں ہوتا؟ جوابا گذارش ہے کہ مسلمانوں کے کسی ایک فرقے کو "اہلحدیث" موسوم کرنا پہلے دور سے بہت بعد کی اور ایک جدید اصطلاح ہے، قرونِ وسطیٰ میں اس نام سے کوئی فقہی مسلک یافرقہ معروف نہ تھا۔
اس تفصیل سے پتہ چلتا ہے کہ اس معنی کے لحاظ سے اپنے آپ کواہلحدیث کہنا اسی طرح صحیح نہیں جس طرح منکرین حدیث کا اپنے آپ کواہلِ قرآن کہنا صحیح نہیں؛ کیونکہ قرآن کریم کوتو سبھی مسلمان مانتے ہیں، اس میں کسی ایک فرقے کی کیا تخصیص؟ اور حدیث کواصولاً تسلیم کیئے بغیر کوئی شخص مسلمان نہیں ہوسکتاـــــ ہاں! جب اس عنوان سے ایک مسلک اپنی جگہ معروف ہوچکا توضروری ہے کہ حدیث کے طلبہ اس سے بھی کچھ نہ کچھ تعارف ضرور رکھتے ہوں؛ لیکن ضروری ہے کہ وہ ہردواصطلاحوں کوپیشِ نظر بھی رکھیں۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں